اسی خیال میں تاروں کو رات بھر دیکھوں
کہ تجھ کو صبحِ قیامت سے پیشتر دیکھوں
اِس اک چراغ کی لَو چبھ رہی ہے آنکھوں میں
تمام شہر ہو روشن تو اپنا گھر دیکھوں
مجھے خود اپنی طبیعت پہ اعتماد نہیں
خدا کرے کہ تجھے اب نہ عمر بھر دیکھوں
صدائے غولِ بیاباں نہ ہو یہ آوازہ
مرا وجود ہے پتّھر جو لوٹ کر دیکھوں
نظر عذاب ہے پاؤں میں ہو اگر زنجیر
فضا کے رنگ کو دیکھوں کہ بال و پر دیکھوں
جدا سہی مری منزل بچھڑ نہیں سکتا
میں کس طرح تجھے اوروں کا ہمسفر دیکھوں
وہ لب فرازؔ اگر کر سکیں مسیحائی
بقولِ دردؔ میں سو سو طرح سے مر دیکھوں
٭٭٭