لمحے وفورِ شوق کے ایسے نہ آئے تھے
یوں چپ ہیں ترے پاس ہی جیسے نہ آئے تھے
ساقی شکستِ جام سے چہروں پہ دیکھنا
وہ رنگ بھی کہ شعلۂ مے سے نہ آئے تھے
دل پر لگی خراش تو چہرے شفق ہوئے
اب تک تو زخم راس کچھ ایسے نہ آئے تھے
پہلے بھی روئے ہیں مگر اب کے وہ کرب ہے
آنسو کبھی بھی آنکھوں میں جیسے نہ آئے تھے
جب صبح ہو چکی ہے تو کیا سوچنا فرازؔ
وہ رات کیوں نہ آئے تھے کیسے نہ آئے تھے
٭٭٭