شعاعِ مہر منور شبوں سے پیدا ہو
متاعِ خوابِ مسرّت غموں سے پیدا ہو

مری نظر سے جو گم ہو گیا وہ ظاہر ہو
صراطِ شہرِ صفا الجھنوں سے پیدا ہو

گلِ مراد! سرِ دشتِ نامرادی کھِل!
رخِ نگارِ وفا محملوں سے پیدا ہو

گماں نہیں مجھے جس سمت سے،وہاں سے آ
جو میں نے دیکھی نہیں، ان جگہوں سے پیدا ہو

ہویدا ہو دمِ زندہ ہجومِ مردہ سے
اے اصل شوق غلط خواہشوں سے پیدا ہو

مثالِ گوسِ قزح بارشوں کے بعد نکل
جمالِ رنگ کھلے منظروں سے پیدا ہو

فروغِ اسمِ محمدؐ ہو بستیوں میں منیرؔ
قدیم یاد نئے مسکنوں سے پیدا ہو