اے نئی نسل!

۔22 نومبر 1970ء کو گورنمنٹ کالج لدھیانہ کی گولڈن جوبلی منائی گئی، اس موقع پر کالج کے ایک سابق طالب علم کی حیثیت سے ساحر ساحب کو خاص طور پر مدعو کیا گیا اور ان کی نمایاں ادبی اور تہذیبی خدمات کے پیش نظر مرکزی وزیرِ تعلیم شری آر۔کے وی راؤ نے انہیں کالج کی طرف سے گولڈ میڈل پیش کیا۔ ساحر صاحب نے یہ نظم اس تقریب کے لئے لکھی اور اساتذہ اور نئے طالب علموں کے اجتماع میں پڑھی۔


میرے اجداد کا وطن یہ شہر
میری تعلیم کا جہاں یہ مقام
میرے بچپن کی دوست، یہ گلیاں
جن میں رسوا ہوا شباب کا نام
یاد آتے ہیں ان فضاؤں میں
کتنے نزدیک اور دور کے نام
کتنے خوابوں کے ملگجے چہرے
کتنی یادوں کے مرمریں اجسام
کتنے ہنگامے، کتنی تحریکیں
کتنے نعرے جو تھے زباں زدِ عام
میں یہاں جب شعور کو پہنچا
اجنبی قوم کی تھی قوم غلام
یونین جیک درسگاہ پہ تھا
اور وطن میں تھا سامراجی نظام
اسی مٹی کو ہاتھ میں لے کر
ہم بنے تھے بغاوتوں کے امام
یہیں جانچے تھے دھرم کے وشواس
یہیں پرکھے تھے دین کے اوہام
یہیں منکر بنے روایت کے
یہیں توڑے رواج کے اصنام
یہیں نکھرا تھا ذوقِ نغمہ گری
یہیں اترا تھا شعر کا الہام
میں جہاں بھی رہا، یہیں کا رہا
مجھ کو بھولے نہیں ہیں یہ در و بام
نام میرا جہاں جہاں پہنچا
ساتھ پہنچا ہے اس دیار کا نام
میں یہاں میزباں بھی، مہماں بھی
آپ جو چاہیں، دیجیے مجھے نام
نذر کرتا ہوں ان فضاؤں کی
اپنا دل، اپنی روح، اپنا کلام
اور فیضانِ علم جاری ہو
اور اونچا ہو اس دیار کا نام
اور شاداب ہو یہ ارضِ حسیں
اور مہکے یہ وادیِ گلفام
اور ابھریں صنم گری کے نقوش
اور چھلکیں مئے سخن کے جام
اور نکلیں وہ بے نوا، جن کو
اپنا سب کچھ کہیں وطن کے عوام
قافلے آتے جاتے رہتے ہیں
کب ہوا ہے یہاں کسی کا قیام
نسل در نسل کام جاری ہے
کارِ دنیا کبھی ہوا نہ تمام
کل جہاں میں تھا آج تو ہے وہاں
اے نئی نسل! تجھ کو میرا سلام
٭٭٭