بچھڑنے کے زمانے آ گئے ہیں
اسے کتنے بہانے آ گئے ہیں

اداسی میں گھرے رہتے تھے جب ہم
وہ سارے دن پرانے آ گئے ہیں

نہیں ہیں خوش گرا کر عرش سے بھی
زمیں سے بھی اٹھانے آ گئے ہیں

وہ ہم پر مسکرانے آ گئے ہیں
نیا اک غم لگانے آ گئے ہیں

کسی کی موت کے آثار دل میں
صف ماتم بچھانے آ گئے ہیں

بتا دو موسم گریہ کو فرحت
کہ ہم رونے رلانے آ گئے ہیں
***