میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہچانا اولین ترجیح ہے، چیئرمین نیب
a.jpg

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جاوید اقبال نے کہا ہے کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہچانا اور ملک کو کرپشن فری بنانا اولین ترجیح کے ساتھ ساتھ نیب کا ایمان بھی ہے۔

نیب ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیئرمین جاوید اقبال نے کہا کہ ہم ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ نیب قوم کے اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک جانے والے بدعوان عناصر کو تمام وسائل استعمال کرتے ہوئے وطن واپس لا کر ان سے قوم کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کرنے کیلئے انتہائی سنجیدہ کاوشیں کر رہا ہے۔
انہوں نے نیب کے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ دیانتداری، ایمانداری، محنت، لگن، میرٹ، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق اپنی قومی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔
چیئرمین کا کہنا تھا کہ نیب پر اعتماد کی وجہ سے ہی نیب کو گزشتہ 13 ماہ کے دوران 54344 شکایات موصول ہوئیں۔ جن کا قانون کے مطابق مکمل جائزہ لیا گیا اور مکمل سکروٹنی کے بعد 2125 شکایات کی جانچ پڑتال، 1059 انکوائریاں اور 302 انوسٹی گیشنزکی منظوری دی گئی جبکہ 590 بدعنوانی کے ریفرنس مختلف معززاحتساب عدالتوں میں دائر کئے گئے جو کہ اس وقت زیر سماعت ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نیب نے 569 افراد کو گرفتار کر کے گزشتہ 13 ماہ میں ان سے قوم کے لوٹے گئے تقریباً 3919.011 ملین روپے برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کروائے۔ نیب کی 2018ء میں سزا دلوانے کی شرح 70.8 فیصد رہی جو کہ پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے کسی دوسرے ادارے سے بہتر اور مثالی ہے۔
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کے اس وقت معزز احتساب عدالتوں میں 1219 بدعنوانی کے ریفرنسز زیر سماعت ہیں جن کی تقریباً مالیت 895 ارب روپے ہے۔ تمام مقدمات پوری تیاری اور قانون کے مطابق ٹھوس شواہد کی بنیاد پر معزز عدالتوں میں نیب کے مقدمات کی پیروی کریں تا کہ تمام مقدمات منطقی انجام تک پہنچانے اور قوم کی لوٹی گئی رقم برآمد کرنے میں مدد مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے غریب لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی واپس دلانے کیلئے کوشاں ہیں۔ غیر قانونی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے لوگوں کو نہ پلاٹ دیئے اور نہ ہی رقوم واپس کیں جس کے باعث متاثرین در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔