زعم ایسا کیا کہ لطفِ دوست ٹھکرانا پڑے
یہ طبیعت ہے تو شاید جاں سے بھی جانا پڑے
خانہ ویرانی تو ہوتی ہے مگر ایسی کہاں
اپنی آنکھوں سے خود اپنا گھر نہ پہچانا پڑے
رسم چل نکلی عجب اب میکدے کی خیر ہو
ہے وہی جمشید جس کے ہاتھ پیمانہ پڑے
سوچ لو اُس بزم سے اٹھنے سے پہلے سوچ لو
یہ نہ ہو پھر دل کے ہاتھوں لوٹ کر آنا پڑے
لے چلے ہیں حضرت ناصح مجھے جس راہ سے
لطف جب آئے اُدھر بھی کوئے جانانہ پڑے
غم ہی ایسا تھا کہ دل شَق ہو گیا ورنہ فرازؔ
کیسے کیسے حادثے ہنس ہنس کے سہہ جانا پڑے
٭٭٭