مجھے کیا خبر تھی سچ مچ یہ سمے گزر رہا ہے
میں یہی سمجھ رہا تھا وہ مذاق کر رہا ہے
ذرا مہلت تو دے دو، مرے بخت نارسا کو
یہ ابھی بدل رہا ہے یہ ابھی سنور رہا ہے
تری چاپ سننے والا ترا منتظر ہے اب تک
ابھی کل تلک یہ رستہ تری رہگزر رہا ہے
تجھے مل سکے جو فرصت تو یہ دیکھ تیری خاطر
کوئی کیسے جی رہا ہے کوئی کیسے مر رہا ہے
نئے ہم سفر کیا ہے کوئی ایسی خاص خوبی
کہ مری رفاقتوں کا بھی نشہ اتر رہا ہے
اسے جانے خوف کیا ہے مری جان ناتواں سے
کہ قفس میں لانے والا مرے پر کترے رہا ہے
***