نہ دوائیں پر اثر ہیں نہ دعائیں کیا بتائیں
تجھے اپنے دل کی حالت جو بتائیں کیا بتائیں
جو چراغ آرزو تھا وہ تو بجھ چکا کبھی کا
کسے ڈھونڈتی ہیں اب تک یہ ہوائیں کیا بتائیں
کبھی دور کے نگر سے ،کبھی پاس کی گلی سے
ہمیں کون دے رہا ہے یہ صدائیں کیا بتائیں
وہ بہار کس چمن میں مری راہ تک رہی ہے
یہ درخت گونگے بہرے، یہ خزائیں کیا بتائیں
کہ گھڑی کی سوئیاں سے تری ساعتیں بندھی ہیں
تجھے پاس منتوں سے جو بٹھائیں کیا بتائیں
تجھے اعتبار ساجد کے ان آنسوؤں کی کیا غم
کہ برس رہی ہیں کیونکر یہ گھٹائیں کیا بتائیں
***