نغمہ جو ہے تو روح میں ہے، نَے میں کچھ نہیں
گر تجھ میں کچھ نہیں، تو کسی شَے میں کچھ نہیں

تیرے لہو کی آنچ سے گرمی ہے جسم کی
مے کے ہزار وصف سہی، مَے میں کچھ نہیں

جس میں خلوصِ فکر نہ ہو، وہ سخن فضول
جس میں نہ دل شریک ہو، اس لَے میں کچھ نہیں

کشکولِ فن اٹھا کے سوئے خسرواں نہ جا
اب دستِ اختیارِ جم و کے میں کچھ نہیں
٭٭٭