دل ابھی۔۔۔!

زندگی سے انس ہے
حسن سے لگاؤ ہے
دھڑکنوں میں آج بھی
دل ابھی بجھا نہیں
رنگ بھر رہا ہوں میں
خاکۂ حیات میں
آج بھی ہوں منہمک
فکرِ کائنات میں
غم ابھی لٹا نہیں
حرفِ حق عزیز ہے
ظلم ناگوار ہے
عہدِ نو سے آج بھی
عہد، استوار ہے
میں ابھی مرا نہیں
٭٭٭