بس ایک ماہِ جنوں خیز کی ضیا کے سوا
نگر میں کچھ نہیں باقی رہا ہوا کے سوا

ہے ایک اور بھی سورت کہیں مری ہی طرح
اک اور شہر بھی ہے قریۂ صدا کے سوا

اک اور سمت بھی ہے اس سے جا کے ملنے کی
نشان اور بھی ہیں اک نشانِ پا کے سوا

مکان، زر، لبِ گویا، حدِ سپہر ق زمیں
دکھائی دیتا ہے سب کچھ یہاں خدا کے سوا

مری ہی خواہشیں باعث ہیں میرے غم کی منیرؔ
عذاب مجھ پہ نہیں حرفِ مدّعا کے سوا