کیسی ہے رہگزار وہ دیکھیں گے جا کے اب اسے
بیت گئے برس بہت، دیکھا تھا ہم نے جب اسے

جاگے کا خوان ہجر سے آۓ گا لوٹ کر یہیں
دیکھیں گے خوف و شوق سے روزنِ در سے سب اسے

صحرا نہیں ہے شہر ہے، اور بھی لوگ ہیں یہاں
چاروں طرف مکان ہیں، اتنا ہے ہوش کب اسے

کہنے کو بات کچھ نہیں، جانا ہے اسکو تجھ کو بھی
کیوں رو کھڑا ہے راہ میں روک کے بے سبب اسے

باغوں میں جا اے کوش نَوا آئی بسنت کی ہوا
زرد ہُوا ہے بن عجب، جادو چڑھا رجب اسے

اک اک ورق ہے آبِ زر تیری غزل کا منیرؔ
جب یہ کتاب ہو چکے جا کے دکھانا تب اسے