وہ لڑکی بھی ایک عجیب پہیلی تھی
پیاسے ہونٹ تھے آنکھ سمندر جیسی تھی
سورج اس کو دیکھ کر پیلا پرتا تھا
وہ سرما کی دھوپ میں دھل کر نکلی تھی
اسکو اپنے سائے سے ڈر لگتا تھا
سوچ کے صحرا میں وہ تنہا ہرنی تھی
آتے جاتے موسم اس کو ڈستے تھے
ہنستے ہنستے پلکوں سے رو پڑتی تھی
آدھی رات گنوا دیتی تھی چپ رہ کر
آدھی رات کو چاند سے باتیں کرتی تھی
دور سے اجڑے مندر جیسا گھر اس کا
وہ اپنے گھر میں اکلوتی دیوی تھی
موم سے نازک جسم سھر کو دکھتا تھا
دیئے جلا کر شب بھر آپ پگھلتی تھی
تیز ہوا کو روک کر اپنے آنچل پر
سوکھے پھول اکٹھے کرتی پھرتی تھی
سب ظاہر کر دیتی تھی بھید اپنا
سب سے ایک تصویر چھپائے رکھتی تھی
کل شب چکنا چور ہوا تھا دل اس کا
یا پھر پہلی بار وہ دل کھول کر روئی تھی
محسن کیا جانے دھوپ سے بے پروا
وہ اپنے گھر کی دہلیز پر بیٹھی تھی ؟
***