پروفیسر عبدالحفیظ
سوانح نگاری کا فن بڑا ہی نازک اور بہت دشوار فن ہے۔ کسی بھی شخصیت کی سوانح مرتب کرنا اور پوری طرح سے اس سے عہدہ برآ ہو جانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی تلوار کی دھار پر چل کر سلامت اتر جائے۔ سوانح نگاری میں مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھا جاتا ہے۔ سوانح کا انتخاب: سوانح نگار کو سب سے پہلے صاحب سوانح کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ جس کی سوانح لکھنے کا ارادہ کر رہا ہے وہ شخصیت اس قابل ہو کہ اس کی سوانح لکھی جائے۔ سوانح نگار ایسی شخصیات کا انتخاب کرے جو کہ نمایاں ہوں اور ان کی زندگی مسلسل نشیب و فراز سے دوچار رہی ہو۔ زندگی سے واقفیت: سوانح نگار کو چاہیے کہ وہ صاحب سوانح کی زندگی کے تمام پہلوؤں سے پوری طرح واقف ہو۔ سوانح میں اپنے دور کی تاریخی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی کشمکش کا اظہار ملتا ہے۔ اس کے بغیر کوئی سوانح مکمل نہیں ہو سکتی۔ واقعات کا انتخاب اور مواد کی فراہمی: سوانح میں ایسے واقعات کا انتخاب کرنا ہوتا ہے جو کہ فرد کی ذات اور اس کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوں خواہ واقعات غیر اہم ہی کیوں نہ ہوں۔ انسانی زندگی میں واقعات کا خزینہ پوشیدہ رہتا ہے اس لیے ایک سوانح نگار واقعات کے گھنے جنگل میں ایسے واقعات کا انتخاب کرتا ہے جو فرد کی ذات پر روشنی ڈال سکتے ہوں۔ اگلا مسئلہ مواد کی فراہمی ہے۔ کسی شخصیت کے بارے میں کن کن ذرائع سے کیا کیا مواد فراہم ہو سکتا ہے یہ ساری باتیں اچھی طرح سے جان لینی چاہئیں۔ حسن ترتیب: تمام زندگی کے بارے میں مکمل طور پر تحقیق کرنے کے بعد ہی مواد جمع کرنا چاہیے اور اس کو اس طرح سے ترتیب دینا چاہیے کہ پیدائش سے لے کر موت تک کے تمام واقعات اور کارنامے قاری کی آنکھوں کے سامنے آ جائیں۔ سوانح میں تاریخ، فرد واحد اور ادبی چاشنی تینوں کی آمیزش ہوتی ہے، اور یہی حسن ترتیب اس کے حسن کا سبب بن جاتی ہے۔ سوانح میں ہیرو کی ذہنی کیفیت تک پہنچ کر اس کو ٹٹولنا اور اس کی شخصیت کے اتار چڑھاؤ کو گرفت میں لینا ایک اچھے سوانح نگار کا بنیادی فرض ہے اور پھر ان الجھنوں کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ دیانت داری اور بے باکی کے ساتھ بیان کرنا اس کے لیے لازمی ہے۔ اس کی یہی فنی ترتیب اور تنظیم سوانح کی اساس ہے۔ منصفانہ انداز: ایک اچھی سوانح کی خصوصیت یہ ہے کہ سوانح نگار صاحب سوانح کی زندگی کے ہر پہلو سے بخوبی واقف ہو کر اس پر ایمان داری سے روشنی ڈال سکتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کے عیوب کو چھپا جائے یا اس کی خوبیوں کو کم کر کے اس کے عیوب کو بڑھا چڑھا کر بیان کر دے۔ اسلوب: ایک بہترین سوانح نگار کو زبان و اسلوب کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے، کیوں کہ سوانح نگاری کی زبان اور اس کے اسلوب کی خصوصیات ہی سوانح کو ادب کا درجہ بخشتی ہیں۔ جذبۂ اثر پذیری: سوانح میں یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ سوانح سے فائدہ کیا ہے؟ اس کے ذریعہ ہی سے ہمیں عظیم شخصیات، سائنس دانوں، مفکروں، مذہبی رہنماؤں اور سماجی کارکنوں، جن کے احسانات سے یہ دنیا گراں بار ہے، کے بارے معلوم ہوتا ہے۔ بڑے انسانوں کی زندگیاں بتاتی ہیں کہ ہم اپنی زندگیوں کو بھی کامیاب بنا سکتے ہیں۔