بائیں ہاتھ والے
ارم ظہور
جہاں اُنگلیوں کی بناوٹ اور ہاتھوں کی لکیروں میں دلچسپی لی جاتی ہے وہیں بائیں ہاتھ والے (لیفٹ ہینڈڈ) بھی اپنی جانب توجہ مبذول کرواتے ہیں۔ لوگ اُن کو لکھتے ہوئے یا کام کرتے ہوئے ضرور نوٹ کرتے ہیں۔ جائزوں کے مطابق دنیا کی تقریباً 10 فیصد آبادی بائیں ہاتھ والوں پر مشتمل ہے۔ عورتوں کی نسبت بائیں بازو والے مردوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن کے استاد کرس میک مانس نے اپنی کتاب ’’رائٹ ہینڈ، لیفٹ ہینڈ‘‘ میں لکھا ہے کہ تاریخی طور پر بائیں ہاتھ والوں نے زیادہ کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ ان کے مطابق بائیں ہاتھ والوں کے دماغ کی ساخت مختلف ہوتی ہے جس سے ان کی بعض صلاحیتیں بڑھ جاتی ہیں۔ دوسری طرف امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جہاں تک آمدنی کا تعلق ہے دائیں اور بائیں بازو والوں میں زیادہ فرق نہیں۔ ٹیبل ٹینس، بیڈمنٹن اور کرکٹ جیسے کھیلوں میں بائیں بازوکے کھلاڑیوں کی تعدادآبادی کے تناسب سے زیادہ ہے۔ یہ وہ کھیل ہیں جن میں دو یا اس سے زائد کھلاڑی باہم مقابل ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف سوئمنگ جیسے کھیلوں میں دونوں ہاتھ والوں کی نمائندگی آبادی کے تناسب سے برابر ہے۔ بین الاقوامی سطح پر 13 اگست کو بائیں ہاتھ والوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ایسے افراد کو کئی دفعہ مشکل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ہمارے ہاں انہیں درپیش تین بڑی مشکلات مندرجہ ذیل ہیں۔ ۰ امتحان دیتے وقت دائیں ہاتھ والی کرسی استعمال کرنی پڑتی ہے جس کی وجہ سے بازو پر زور آتا ہے اور پرچے پر زیادہ لکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ۰ قینچی استعمال کرنا، استری کرنا ، کمپیوٹر کا مائوس چلانا یا سلائی کرنا دشوار ہوتا ہے۔ ۰ بائیں ہاتھ والوں کا تالی بجانا اور بائیں ہاتھ سے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنا لوگوں کو عجیب لگتا ہے۔ بہرحال کام کرنے کیلئے چاہے کسی بھی ہاتھ کا استعمال کریں بس کام سیدھا ہونا چاہیے۔