چل میرے غبارے
a.jpg
ابنِ انشا
ایک بار میں نے ایک اتنا بڑا غبارہ بنایا کہ آپ یقین نہ کریں گے۔ لندن اور گردونواح کے شہروں میں جتنا ریشمی کپڑا بھی موجود تھا وہ سارا لے کر میں نے اس کے بنانے میں خرچ کر دیا۔ اس غبارے کی مدد سے میں نے بڑے کارنامے کیے۔ کسی مکان کو اس کی جگہ سے اٹھانا اور اس کی جگہ دوسرا مکان رکھ دینا اور اتنی خاموشی اور آہستگی سے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو، میرے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ لوگ اگر سوئے ہوتے تھے تو سوئے رہتے تھے ورنہ جاگتے میں ان کو احساس نہ ہونے پاتا تھا کہ ان کا مکان اٹھایا جا رہا ہے۔ جب ونڈ سرکیسل کے سنتری نے سینٹ پال گرجا کے گھڑیال کو بالکل پاس تیرہ بجاتے سنا تو حیران رہ گیا کیونکہ سینٹ پال وہاں سے اتنی دور ہے کہ آواز آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہوا یہ کہ میں نے پورے قلعے کو اٹھا کر سینٹ پال گرجا کے ساتھ والے میدان میں رکھ دیا تھا اور صبح ہونے سے پہلے پھر اٹھا لیا۔ قلعے کے اندر لوگ سوئے کے سوئے رہ گئے۔ کسی کو خبر نہ ہوئی۔ لندن کے ڈاکٹری کے کالج میں سال کے سال عہدیداروں کے انتخاب کے لیے ایک جلسہ اور دعوت ہوتی ہے۔ گزشتہ بار میں اپنے غبارے کو پھُلا کر اس کالج کے اوپر لے گیا اور گنبد میں کمند پھنسا کر اسے اٹھا لیا۔ اس کالج کو مع دعوت کے مہمانوں اور میزبانوں کے میں آسمان میں اونچا لے گیا اور کوئی تین ماہ تک وہاں معلق رکھا۔ آپ پوچھیں گے اس دوران میں ان لوگوں کے کھانے پینے کا کیا ہوا۔ یہ لوگ دعوتوں میں ایسی فضول خرچی برتتے ہیں اور کھانے کے ڈھیر لگاتے ہیں کہ اس سے دگنا وقت بھی ان کو آسمان میں لٹکائے رکھتا تو یہ کھانا ان کے لیے کافی پڑتا۔ میں نے تو یہ حرکت مذاق میں کی تھی لیکن اس سے بعض معززین کا بڑا نقصان ہو گیا۔ مثلاً گورکنوں کا، تابوت بنانے والوں کا اور پادریوں کا۔ کیونکہ جتنے دن یہ ڈاکٹر لوگ اوپر آسمان میں معلق رہے دنیا میں بہت کم موتیں ہوئیں۔ وہ بھر مار نہ رہی جو ان لوگوں کی کوششوں سے ہوتی ہے۔ خدا نے سب کے رزق کا کوئی نہ کوئی وسیلہ بنا رکھا ہے۔ اگر ڈاکٹر لوگ نہ ہوں تو گورکن بھوکے مر جائیں۔ ٭…٭…٭