کیسی طلب اور کیا اندازے مشکل ہے تقدیر بنے
دل پر جس کا ہاتھ بھی رکھیو آخر وہ شمشیر بنے
غم کے رشتے بھی نازک تھے تم آئے اور ٹوٹ گئے
دل کا وحشی اب کیا سنبھلے اب کیا شے زنجیر بنے
اپنا لہو تیری رعنائی تاریکی اس دنیا کی
میں نے کیا کیا رنگ چنے ہیں دیکھوں کیا تصویر بنے
اپنا یہ عالم ہے خود سے بھی اپنے زخم چھپاتے ہیں
لوگوں کو یہ فکر کہ کوئی موضوع تشہیر بنے
تم نے فرازؔؔ اس عشق میں سب کچھ کھو کر بھی کیا پایا ہے
وہ بھی تو ناکامِ وفا تھے جو غالبؔ اور میرؔ بنے