سارے منظر ایک جیسے، ساری باتیں ایک سی
سارے دن ہیں ایک سے اور ساری راتیں ایک سی

بے نتیجہ، بے ژمر، جنگ و جدل سود و زیاں
ساری جیتیں ایک سی اور ساری ماتیں ایک سی

سب ملاقاتوں کا مقصد کاروبارِ زر گری
سب کی دہشت ایک جیسی، سب کی گھاتیں ایک سی

اب کسی میں اگلے وقتوں کی وفا باقی نہیں
سب قبیلے ایک سے ہیںساری ذاتیں ایک سی

ہوں اگر زیرِ زمیں تو فائدہ ہونے کا کیا
سنگ و گوہر ایک ہیں پھر ساری دھاتیں ایک سی

ایک ہی رخ کی اسیری خواب ہے شہروں کا اب
ان کے ماتم ایک سے، ان کی براتیں ایک سی

اے منیرؔ آزاد ہو اس سحرِ یک رنگی سے دور
ہو گئے سب رنگ یکساں، سب نباتیں ایک سی