شام کے مسکن میں ویراں مے کدے کا در کھلا
باب گزری صحبتوں کا خواب کے اندر کھلا

کچھ نہ تھا جز خوابِ وحشت وہ وفا اس عہد کی
راز اتنی دیر کا اس عمر میں آ کر کھلا

بن میں سرگوشی ہوئی آثارِ ابر و باد سے
بندِ غم سے جیسے اک اشجار کا لشکر کھلا

جگمگا اُٹھّا اندھیرے میں مری آہٹ سے وہ
یہ عجب اُس بُت کا میری آنکھ پر جوہر کھلا

سبزۂ نو رستہ کی خوشبو تھی ساحل پر منیرؔ
بادلوں کا رنگ چھتری کی طرح سر پر کھلا