یہ بھی کیا شامِ ملاقات آئ
لب پہ مشکل سے تیری بات آئ
صبح سے چپ ہیں ترے ہجر نصیب
ہاۓ کیا ہوگا اگر رات آئ
بستیاں چھوڑ کے برسے بادل
کس قیامت کی یہ برسات آئ
کوئ جب مل کے ہوا تھا رخصت
دلِ بے تاب وہی رات آئ
سایۂ زلفِ بتاں میں ناصر
ایک سے ایک نئ رات آئ