نازِ بیگانگی میں کیا کچھ تھا
حسن کی سادگی میں کیا کچھ تھا
لاکھ راہیں تھیں لاکھ جلوے تھے
عہدِ آوارگی میں کیا کچھ تھا
آنکھ کھلتے ہی چھپ گئ ہر شے
عالمِ بے خودی میں کیا کچھ تھا
یاد ہیں مرحلے محبّت کے
ہاۓ اس بے کلی میں کیا کچھ تھا
کتنے بیتے دنوں کی یاد آئ
آج تیری کمی میں کیا کچھ تھا
کتنے مانوس لوگ یاد آۓ
صبح کی چاندنی میں کیا کچھ تھا
رات بھر ہم نہ سو سکے ناصر
پردۂ خامشی میں کیا کچھ تھا