کسے دیکھیں کہاں دیکھا نہ جاۓ
وہ دیکھا ہے جہاں دیکھا نہ جاۓ
مری بربادیوں پر رونے والے
تجھے محوِ فغاں دیکھا نہ جاۓ
زمیں لوگوں سے خالی ہو رہی ہے
یہ رنگِ آسماں دیکھا نہ جاۓ
سفر ہے اور غربت کا سفر ہے
غمِ صد کارواں دیکھا نہ جاۓ
کہیں آگ اور کہیں شعلوں کے انبار
بس اے دورِ زماں دیکھا نہ جاۓ
در و دیوار ویراں شمع مدھم
شبِ غم کا سماں دیکھا نہ جاۓ
پرانی صحبتیں یاد آ رہی ہیں
چراغوں کا دھواں دیکھا نہ جاۓ
بھری برسات خالی جا رہی ہے
سرِ ابرِ رواں دیکھا نہ جاۓ
کہیں تم، اور کہیں ہم، کیا غضب ہے
فراقِ جسم و جاں دیکھا نہ جاۓ
وہی جو حاصلِ ہستی ہے ناصر
اُسی کو مہرباں دیکھا نہ جاۓ