۔۔۔مگر ظلم کے خلاف


ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی

ظالم کو جو نہ روکے، وہ شامل ہے ظلم میں
قاتل کو جو نہ ٹوکے، وہ قاتل کے ساتھ ہے
ہم سر بکف اٹھے ہیں کہ حق فتح یاب ہو
کہہ دو اسے جو لشکرِ باطل کے ساتھ ہے
اس ڈھنگ پر ہے زور، تو یہ ڈھنگ ہی سہی

ظالم کی کوئی ذات، نہ مذہب نہ کوئی قوم
ظالم کے لب پہ ذکر بھی ان کا گناہ ہے
پھلتی نہیں ہے شاخِ ستم اس زمین پر
تاریخ جانتی ہے، زمانہ گواہ ہے
کچھ کور باطنوں کی نظر تنگ ہی سہی

یہ زر کی جنگ ہے نہ زمینوں کی جنگ ہے
یہ جنگ ہے بقا کے اصولوں کے واسطے
جو خون ہم نے نذر دیا ہے زمین کو
وہ خون ہے گلاب کے پھولوں کے واسطے
پھوٹے کی صبحِ امن، لہو رنگ ہی سہی
٭٭٭