گئی رُت کی وحشتوں کا یہ خراج مانگتی ہے
کوئی کھیل تو نہیں ہے یہ غزل کی شاعری ہے
یہی سوچ، یہ ندامت مرا دل نچوڑتی ہے
کہ حروف آرزو میں کسی رنگ کی کمی ہے
جو لہو لہو میں مصرعے،تو ہنر نہیں ہے میرا
یہ بہار زخم دل ہے ،یہ کمال جانکنی ہے
مرا چاند رہ گیا ہے کہیں راستے میں شائد
اک اداس کنج گل میں مری شام ڈھل رہی ہے
کبھی عکس تھا کسی کا اسی چوکھٹے میں روشن
وہ شکستہ خالی کھڑکی مجھے اب بھی دیکھتی ہے
مرے دل کے طاقچے پر ذرا تم نگاہ رکھنا!
مری رات کے سفر میں یہ چراغ آخری ہے
مرے اعتبار ساجد! مرے بیقرار ساجد
ذرا حوصلہ تو رکھو،یہ فراق عارضی ہے
***