اُتری تھی شہرِ گل میں کوئی آتشیں کرن
وہ روشنی ہوئی کے سلگنے لگے بدن
غارت گرِ چمن سے عقیدت تھی کس قدر
شاخوں نے خود اتار دیے اپنے پیرہن
اس انتہائے قرب نے دھندلا دیا تجھے
کچھ دور ہو کہ دیکھ سکوں تیرا بانکپن
میں بھی تو کھو چلا تھا زمانے کے شور میں
یہ اتفاق ہے کہ وہ یاد آ گئے معاً
جس کے طفیل مہر بلب ہم رہے فرازؔؔ
اس کے قصیدہ خواں ہیں سبھی اہلِ انجمن
٭٭٭