کسی کے تذکرے بستی میں کو بکو جو ہوئے
ہمیں خموش تھے موضوعِ گفتگو جو ہوئے
نہ دل کا درد ہی کم ہے نہ آنکھ ہی نم ہے
نہ جانے کون سے ارماں تھے وہ لہو جو ہوئے
نظر اٹھائی تو گم گشتۂ تحیر تھے
ہم آئنے کی طرح تیرے رو برو جو ہوئے
ہمیں ہیں وعدۂ فردا پہ ٹالنے والے
ہمیں نے بات بدل دی بہانہ جُو جو ہوئے
فرازؔؔؔ ہو کہ وہ فرہادؔ ہو کہ ہو منصورؔ
انہیں کا نام ہے ناکامِ آرزو جو ہوئے
٭٭٭