پیار کا تحفہ
(اپنے جگری دوست یش چوپڑہ کی شادی کے موقع پر)

کارگر ہو گئی احباب کی تدبیر اب کے
مانگ لی آپ ہی دیوانے نے زنجیر اب کے

جس نے ہر دام میں آنے میں تکلف برتا
لے اڑی اسے اک زلفِ گرہ گیر اب کے

جو سدا حسن کی اقلیم میں ممتاز رہے
دل کے آئینے میں اتری ہے وہ تصویر اب کے

خواب ہی خواب جوانی کا مقدر تھے کبھی
خواب سے بڑھ کے گلے مل گئی تعبیر اب کے

اجنبی خوش ہوئے اپنوں نے دعائیں مانگیں
اس سلیقے سے سنواری گئی تقدیر اب کے

یار کا جسن ہے اور پیار کا تحفہ ہیں یہ شعر
خود بخود ایک دعا بن گئی تحریر اب کے
٭٭٭