غیروں سے مل کے ہی سہی، بے باک تو ہوا
بارے وہ شوخ پہلے سے چالاک تو ہوا
جی خوش ہوا ہے گرتے مکانوں کو دیکھ کر
یہ شہرِ خوف خود سے جگر چاک تو ہوا
یہ تو ہوا کہ آدمی پہنچا ہے ماہ تک
کچھ بھی ہوا، وہ واقفِ افلاک تو ہوا
اس کشمکش میں ہم بھی تھکے تو ہیں اے منیرؔ
شہرِ خدا ستم سے مگر پاک تو ہوا