چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دن
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

وہ شوقِ بے پناہ میں الفاظ کی تلاش
اظہار کی زباں میں لکنت کے رات دن

وہ ابتدائے عشق وہ آغازِ شاعری
وہ دشتِ جاں میں پہلی مسافت کے رات دن

سودائے آذری میں ہوائے صنم گری
وہ بت پرستیوں مین عبادت کے رات دن

روئے نگاراں و چشمِ غزالاں کے تذکرے
گیسوئے یار وحرف و حکایت کے رات دن

ناکردہ کاریوں پر بھی بدنامیوں کا شور
اختر شماریوں پہ بھی تہمت کے رات دن

میر و انیس و غالب و اقبال سے الگ
راشد ،ندیم ، ٍفیض سے رغبت کے رات دن

رکھ کر کتابِ عقل کو نسیاں کے طاق پر
وہ عاشقی میں دل کی حکومت کے رات دن

ہر روز روزِ ابر تھا، ہر رات چاند رات
آزاد زندگی تھی ،فراغت کے رات دن

اک دشمنِ وفا کو بھلانے کے واسطے
چارہ گروں کی پندو نصیحت کے رات دن

پہلے بھی جاں گسل تھے مگر اس قدر نہ تھے
اک شہرِ بے اماں میں سکونت کے رات دن

پھر یہ ہوا شیوہ دل ترک کر دیا
اور تج دیئے تھے ہم نے محبت کے رات دن

فکرِ معاش شہر بدر کر گئی ہمیں
پھر ہم تھے اور قلم کی مشقت کے رات دن

نو آوردگانِ شہرِتمنا کو کیا خبر
ہم ساکنانِ کوئے ملامت کے رات دن