عذابِ ہجر بڑھا لوں اگر اجازت ہو
اک اور زخم میں کھا لوں اگر اجازت ہو

تمہارے عارض و لب کی جدائی کے دن ہیں
میں جام منہ سے لگا لوں اگر اجازت ہو

تمہارا حسن۔۔تمہارے خیال کا چہرہ
شباہتوں میں چھُپا لوں اگر اجازت ہو

تمہیں سے ہے مرے ہر خوابِ شوق کا رشتہ
اک اور خواب کما لوں اگر اجازت ہو

تھکا دیا ہے تمہارے فراق نے مجھ کو
کہیں میں خود کو گِرا لوں اگر اجازت ہو

برائے نام بنامِ شبِ وصال یہاں
شبِ فراق منا لوں اگر اجازت ہو