جو لطفِ میکشی ہے نگاروں میں آئے گا
یا با شعور بادہ گساروں میں آئے گا

وہ جس کو خلوتوں میں بھی آنے سے عار ہے
آنے پہ آئے گا تو ہزاروں میں آئے گا

ہم نے خزاں کی فصل چمن سے نکال دی
ہم کو پیامِ مرگ بہاروں میں آئے گا

اس دورِ احتیاج میں جو لوگ جی لئے
ان کا بھی نام شعبدہ کاروں میں آئے گا

جو شخص مر گیا ہے وہ ملنے کبھی کبھی
پچھلے پہر کے سرد ستاروں میں آئے گا
٭٭٭