آخر ہم نے کب دینے والے کا رزق حلال کیا
اک دو غزلیں کہہ ڈالیں تو کونسا ایسا کمال کیا
موتی کا اک ہار لپیٹے اپنے کالے جوڑے میں
خوشبو جیسی اس لڑکی نے ایسا استقبال کیا
صبح ہوئی پلکوں سے چلتے اس کو ہونٹوں کی کلیاں
رات کسی نے روشن دے کر ایسا مالا مال کیا
ریل سے اتری پلٹ کے دیکھا اور پھر آگے نکل گئی
اک بے نام تعارف والی! تو نے اور نڈھال کیا
اپنے گھر والوں میں بیٹھی کتنی چہک رہی ہوگی وہ
جس کے فرض ہجر میں ہن نے اپنا شکستہ حال کیا
صبح کو شام کیا مرمر کے،پھر بھی نہ غم کے پتھر سرکے
اک دو روز کی بات نہیں ہے ایسا سالہا سال کیا
اپنی بانہوں کی زنجیر میں اک رہرو کو باندھ لیا
اک ٹوٹا ہوا رشتہ ساجد ہم نے ایسے بحال کیا
***