بہت گہرا ہے اپنا تاجرانہ پیار آپس میں
کہ ہم کرتے ہیں سمجھوتوں کا کاروبار آپس میں
کبھی ٹکرا بھی جاتے ہیں جو برتن ساتھ رہتے ہیں
ہماری ہو بھی جاتی ہے کبھی تکرار آپس میں
یہاں دو سوختہ دل بھی اکٹھے رہ نہیں پاتے
جڑے رہتے ہیں لیکن سینکڑوں کہ سار آپس میں
بہت روئیں گے سناٹے ،یہ گھر جب چھوڑ جاؤ گے
بہت باتیں کریں گے یہ در و دیوار آپس میں
انا کو بیچ میں آئندہ ہم آنے نہیں دیں گے
یہ طے کر لیں کھلے دل سے چلو اک بار آپس میں
وہی نازک گھڑی ہوتی ہے ساجد پر زمانے کی
جگہیں تبدیل جب کرتے ہیں پہرے دار آپس میں
***