زخم دل کی یہ کہانی کیا کروں
میں تیری اک اک نشانی کیا کروں

زندگی کے درد بوڑھا کر گئے
اور بڑھاپے میں جوانی کیا کروں

تشنگی میری بجھا سکتا نہیں
اے سمندر اتنا پانی کیا کروں

کوئی بھی رد عمل مفقود ہے
اتنی ساری رائیگانی کیا کروں

میں تیرے جذبوں کی شدت کا بیاں
صرف قاصد کی زبانی کیا کروں
***