تو نے کس جا پہ اتارا ہے ابھی
کس قدر دور کنارا ہے ابھی

اپنی تقدیر بدل سکتا ہوں
میری مٹھی میں ستارا ہے ابھی

زندگی کہتی ہے کچھ دیر ٹھہر
لیکن اس کا تو اشارہ ہے، ابھی

تم ابھی پاس کھڑے ہو میرے
مجھ کو ہر شخص گوارا ہے ابھی

ہم اسے سونپ چکے ہیں سب کچھ
اور وہ کہتا ہے خسارہ ہے ابھی

وصل کچھ دیر ٹھہر جانے دے
دل تیرے ہجر کا مارا ہے ابھی

دیکھ ٹلتی ہے مصیبت کیسے
میں نے مولا کو پکارا ہے ابھی
***