Results 1 to 3 of 3

Thread: سبحانی با یونس

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    candel سبحانی با یونس

    23045 71820431 - سبحانی با یونس
    عبدالحفیظ ظفر
    ہالی وڈ کے عظیم اداکار مارلن برانڈو نے ایک بار کہا تھا کہ اگر کسی اداکار کے پاس آواز کا خزانہ ہو تو وہ اسے چہرے کے تاثرات کے ساتھ ملا کر ایسی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتا ہے کہ شائقین فلم ششدر رہ جائیں۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آواز کا خزانہ قدرت ہر کسی کو عطا نہیں کرتی۔ یہ چند لوگ ہی ہوتے ہیں۔ پاک و ہند کی فلمی صنعت میں بھی اُن اداکاروں نے قدم قدم پر کامیابی کے پھول سمیٹے جن کی آواز بہت متاثر کن تھی۔ اس سلسلے میں بے شمار نام لیے جا سکتے ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی سے بھی بہت سے ایسے اداکار سامنے آئے جن کی سب سے بڑی خوبی ان کی خوبصورت آواز تھی۔ سبحانی با یونس کا شمار بھی ان فنکاروں میں ہوتا ہے جن کی آواز نے ایک عرصے تک لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ وہ بنیادی طور پر ریڈیو کے آرٹسٹ تھے۔ ریڈیو نے ان کے علاوہ اور بھی کئی نامور فنکار فلمی صنعت کو دیئے۔ سبحانی با یونس سٹیج پر بھی کام کرتے رہے۔ وہ ایک ورسٹائل اداکار تھے جنہوں نے سالہا سال اپنی فنی عظمت کے نقوش چھوڑے۔ وہ اپنے ہر کردار میں ڈوب جاتے تھے۔ اُن کے ہم عصر اداکار بھی ان کی صلاحیتوں کا لوہا مانتے تھے۔ 1931ء کو اورنگ آباد (بھارت) میں پیدا ہونے والے سبحانی با یونس ایک مکمل اداکار تھے۔ ریڈیو پاکستان میں اپنی منفرد آواز کی بدولت انہوں نے اپنے لیے خصوصی جگہ بنائی۔ ان کی شہرت کا آفتاب اس وقت چمکا جب انہوں نے خواجہ معین الدین کے ڈراموں میں کام کرنا شروع کیا۔ ان کے سٹیج ڈرامہ ’’تعلیمِ بالغاں‘‘ کو بہت پذیرائی ملی جس میں انہوں نے ایک قصائی کا کردار ادا کیا تھا۔ خواجہ معین الدین کا ایک اور ڈرامہ ’’لال قلعے سے لالو کھیت تک‘‘ بھی بہت مشہور ہوا۔ اس پر خواجہ معین الدین کو یہ پیش کش کی گئی کہ وہ ان ڈراموں کو ٹی وی ڈراموں کی شکل دیں۔ چونکہ سبحانی با یونس نے ان ڈراموں میں بڑی عمدہ اداکاری کا مظاہرہ کیا تھا اس لئے ٹی وی ڈراموں کے لیے بھی ان کا انتخاب کیا گیا اور انہوں نے ان ڈراموں میں بھی بڑی مہارت سے کام کیا۔سبحانی با یونس نے ان کے علاوہ جن ڈراموں میں شاندار اداکاری کی ان میں ’’تنہائیاں، خدا کی بستی، میرا نام منگو ہے، انتظار فرمائیے، جانے دو، انسان اور آدمی، باادب، باملاحظہ، ہوشیار، آخری چٹان اور لبیک‘‘ شامل ہیں۔ یہ تمام ڈرامہ سیریز عوام میں بے حد مقبول ہوئی تھیں۔ سبحانی با یونس نے ان تمام سیریز میں مختلف کردار ادا کئے۔ ایک زمانہ ان کی فنی عظمت کا معترف تھا۔ ان کے دیگر ڈراموں میں ’’محمد بن قاسم، قصہ چہار درویش، مرزا غالب بندر روڈ پر اور دو دُونی پانچ‘‘ شامل ہیں۔ ٹی وی پر ان کا آخری ڈرامہ ’’باادب باملاحظہ ہوشیار‘‘ تھا۔ یہاں ہم سبحانی با یونس کے غالب کے کردار کا ذکر کرتے ہیں جس میں انہوں نے کمال کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا غالب کا کردار ادا کرنے کیلئے پہلے محمد یوسف کا انتخاب کیا گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد یوسف بھی ٹی وی کے بڑے آرٹسٹ تھے لیکن مشہور عالم نذر حیدر آبادی نے اصرار کیا کہ مرزا غالب کا کردار سبحانی با یونس کو دیا جائے۔ ان کی رائے کے مطابق سبحانی با یونس اپنے قد کاٹھ اور جسامت سے مرزا غالب لگتے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ 1968 میں سبحانی با یونس ڈائریکٹویٹ آف فلمز اینڈ پبلیکشنز کے تحت بننے والی ایک دستاویزی فلم میں بھی مرزا غالب کے کردار میں جلوہ گر ہوئے تھے۔ یہ دستاویزی فلم غالب کی سو سالہ تقریبات کے سلسلے میں تیار کی گئی تھی۔ یہ دستاویزی فلم چند سیاسی وجوہات کی بنا پر نہیں دکھائی گئی۔ محمد قوی خان کا شمار ٹی وی اور فلم کے منجھے ہوئے اداکاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے بے شمار یادگار کردار ادا کیے۔ بلاشبہ وہ ایک ورسٹائل اداکار ہیں۔ انہوں نے بھی ایک ٹی وی ڈرامے میں مرزا غالب کا کردار ادا کیا تھا۔ چند برس پہلے انہوں نے روزنامہ ’’دنیا‘‘ میگزین کو ایک تفصیلی انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا کہ سبحانی با یونس نے ان سے بہتر غالب کا کردار ادا کیا۔ اگرچہ محمد قوی خان کو بھی غالب کے کردار میں بہت پسند کیا گیا تھا لیکن ان کی رائے کچھ اور تھی۔ اسی طرح جب ان سے نصیرالدین شاہ کے حوالے سے پوچھا گیا کہ انہوں نے گلزار کی ٹیلی فلم ’’غالب‘‘ میں کیسی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو محمد قوی خان کا کہنا تھا کہ 50منٹ کے ڈرامے کا ایک ٹیلی فلم سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ نصیر الدین شاہ نے کئی قسطوں میں کام کیا اور انہیں غالب کا کردار ادا کرنے کیلئے بہت وقت ملا۔ جہاں تک 50 منٹ کے ٹی وی ڈرامے کا تعلق ہے تو اس میں غالب کی شخصیت کا پوری طرح احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ باایں ہمہ سبحانی با یونس نے بہت متاثر کن اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ غالب پر بھارت اور پاکستان میں فلمیں بھی بنائی گئیں لیکن ان پر بحث نہیں کی جا سکتی کیونکہ ٹی وی اور فلم میں بہت فرق ہے۔ سبحانی با یونس پر اسرار ڈراموں میں کام کرنے کی وجہ سے بھی مشہور تھے۔ انہوں نے علی ظفر جعفری کی سسپنس سے بھرپور سیریز میں انسپکٹر زبیری کا کردار بڑی کامیابی سے ادا کیا۔ یہ سیریز ریڈیو اور ٹی وی سے آن ایئر ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ابنِ صفی کے لیے بھی کام کیا تھا۔ سبحانی با یونس نے تین اُردو اور ایک گجراتی فلم میں بھی اپنی خوبصورت اداکاری کے جوہر دکھائے۔ سب سے پہلے انہوں نے اقبال اختر کی فلم ’’نادان‘‘ (1973) میں ولن کی حیثیت سے کام کیا۔یہ فلم بھارتی فلم ’’گوپی‘‘ کا چربہ تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ’’گوپی‘‘ بھارت میں زیادہ کامیابی حاصل نہ کر سکی لیکن ’’نادان‘‘ سپرہٹ ثابت ہوئی۔ دیگر اداکاروں کی طرح سبحانی با یونس نے بھی اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ’’آس پاس‘‘ (1982)اور ’’مسکراہٹ‘‘ (1995)میں بھی کام کیا۔ ان کی گجراتی فلم کا نام ’’من تے مان‘‘ تھا۔ 30مئی 2006 کو سبحانی با یونس طویل علالت کے بعد 75سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے۔

    2gvsho3 - سبحانی با یونس

  2. The Following User Says Thank You to intelligent086 For This Useful Post:


  3. #2
    Join Date
    Feb 2010
    Location
    dubai
    Posts
    11,835
    Mentioned
    8910 Post(s)
    Tagged
    11727 Thread(s)
    Thanked
    3026
    Rep Power
    214772

    Default Re: سبحانی با یونس

    thanx for nice sharing


    30abdx0 - سبحانی با یونس
    mera siggy koun uraa le gaya....

  4. #3
    Join Date
    Mar 2018
    Location
    Pakistan
    Posts
    2,428
    Mentioned
    9072 Post(s)
    Tagged
    3539 Thread(s)
    Thanked
    1626
    Rep Power
    6

    Default Re: سبحانی با یونس

    Very Nice
    tfs

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •