یہ جو آنسوؤں میں غرور ہے
یہ محبتوں کا فتور ہے

ترا آسمان قریب تھا
مرا آسمان تو دور ہے

مجھے کہہ رہی تھی وہ عزم سے
مجھے تم کو پانا ضرور ہے

یہ میری شبیہ نہیں، سنو
یہ تو میری آنکھوں کا نور ہے

تیرے عشق کا تیری روح کا
میری وحشتوں میں ظہور ہے
***