گر یہی تلخی یہی تکرار بڑھتی جائے گی
تیرے میرے درمیان دیوار بڑھتی جائے گی
اس طرف رہ جائے گا تو اور ادھر میں بیچ میں
اک سڑک پر بھیڑ کی رفتار بڑھتی جائے گی
جیسے جیسے ترس آتا جائے گا خود پر ہمیں
ویسے ویسے لذت آزار بڑھتی جائے گی
میرے گونگے حرف کا پتھر ترے کام آئے گا
اور بھی تیغ زباں کی دھار بڑھتی جائے گی
جتنے اپنے زخم دنیا کو دکھاتے جاؤ گے
دل میں اتنی خواہش غمخوار بڑھتی جائے گی
مت محبت مانگ اس سے قرض خواہوں کی طرح
اور اس کی شدت انکار بڑھتی جائے گی
ہات لہراتا ہوا وہ جائے گا تنہا کوئی
رفتہ رفتہ ریل کی رفتار بڑھتی جائے گی
***