یاس میں جب کوئ آنسو نکلا
اک نئ آس کا پہلو نکلا
لے اُڑی سبزۂ خود رو کی مہک
پھر تری یاد کا پہلو نکلا
میٹھی بولی میں پپیہے بولے
گنگناتا ہوا جب توٗ نکلا
آئیں ساون کی اندھیری راتیں
کہیں تارا کہیں جگنو نکلا
نۓ مضمون سُجھاتی ہے صبا
کیا ادھر سے وہ سمن بوٗ نکلا
پاؤں چلنے لگی جلتی ہوئ ریت
دشت سے جب کوئ آہو نکلا
کئ دن رات سفر میں گزرے
آج تو چاند لبِ جو نکلا
طاقِ میخانہ میں چاہی تھی اماں
وہ بھی تیرا خمِ ابرو نکلا
اہلِ دل سیرِ چمن سے بھی گۓ
عکسِ گل سایۂ گیسو نکلا
واقعہ یہ ہے کہ بدنام ہوۓ
بات اتنی تھی کہ آنسو نکلا