کوئی حد نہیں ہے کمال کی
کوئی حد نہیں ہے جمال کی

وہی قرب و دور کی منزلیں
وہی شام خواب و خیال کی

نہ مجھی ہی اس کا پتہ کوئی
نہ اسے خبر مرے حل کی

یہ جواب میری صدا کا ہے
کہ صدا ہے اس کے سوال کی


وہ قیامتیں جو گزر گئیں
تھیں امانتیں کئی سال کی

یہ نمازِ عصر کا وقت ہے
یہ گھڑی ہے دن کے زوال کی

ہے منیرؔ صبحِ سفر نئی
گئی بات شب کے ملال کی