کتابِ عمر کا اک اور باب ختم ہوا
شباب ختم ہوا، اک عذاب ختم ہوا

ہویہ نجات سفر میں فریبِ صحرا سے
سراب ختم ہوا، اضطراب ختم ہوا

برس کے کھل گیا بادل ہواۓ شب کی طرح
فلک پہ برق کا وہ پیچ و تاب ختم ہوا

فراغِ کوہ و بیاباں ہے اور شامِ سکوں
صعوبتِ غمِ دنیا کا خواب ختم ہوا

جوابدہ نہ رہا میں کسی کے آگے منیرؔ
وہ اک سوال اور اس کا جواب ختم ہوا