اسیرِ خواہشِ قیدِ مقام تو ہے کہ میں
نظامِ شمس و قمر کا غلام تو ہے کہ میں

ہے کون دونوں میں ظاہر، ہے کون پردے میں
چھپا ہوا ہے جو نظروں سے دام تو ہے کہ میں

نمائشِ مہِ کامل پہ کس کا سایہ ہے
یہ اس کے چار طرف ابرِ شام تو ہے کہ میں

اُڑا ہے رنگِ در و بام باد و باراں سے
نگر کی اس گھنی چُپ میں مدام تو ہے کہ میں

مکان دور سے آتی ہے اک صدا سی منیرؔ
بھلا دیا جسے سب نے وہ نام تو ہے کہ میں