گھر میں کتنا سناٹا ہے باہر کتنا شور
یا دنیا دیوانی ہے یا میرا دل ہے چور
کبھی تو آنکھوں کے گلزاروں میں بھی آ کر ناچ
دل میں کون تجھے دیکھے گا اے جنگل کے مور
یوں پھرتے ہیں گلیوں میں گھبرائے گھبرائے سے
جیسے اس بستی کے سائے بھی ہوں آدم خور
سوچ کی چنگاری بھڑکا کر کیا نادانی کی
اس لمحے سے لے کر اب تک آگ ہیں چاروں اور
چاک گریباں پھرنا کس کو خوش آتا ہے فرازؔؔ
ہم بھی اس کو بھول نہ جائیں دل پہ اگر ہو زور