پھر اسی راہگزر پر شاید
ہم کبھی مل سکیں مگر شاید
جن کے ہم منتظر رہے ان کو
مل گئے اور ہمسفر شاید
جان پہچان سے بھی کیا ہو گا
پھر بھی اے دوست غور کر شاید
اجنبیت کی دھند چھٹ جائے
چمک اٹھے تری نظر شاید
زندگی بھر لہو رلائے گی
یادِ یارانِ بے خبر شاید
جو بھی بچھڑے وہ کب ملے ہیں فرازؔؔ
پھر بھی تو انتظار کر شاید