فن جو نادار تک نہیں پہنچا
ابھی معیار تک نہیں پہنچا

اس نے بروقت بے رخی برتی
شوق، آزار تک نہیں پہنچا

عکسِ مے ہو، کہ جلوۂ گل ہو
رنگ رخسار تک نہیں پہنچا

حرفِ انکار سر بلند رہا
ضعف اقرار تک نہیں پہنچا

حکمِ سرکار کی پہنچ مت پوچھ
اہلِ سرکار تک نہیں پہنچا

عدل گاہیں تو دور کی شے ہیں
قتل اخبار تک نہیں پہنچا

انقلاباتِ دہر کی بنیاد
حق، جو حقدار تک نہیں پہنچا

وہ مسیحا نفس نہیں، جس کا
سلسلہ دار تک نہیں پہنچا
٭٭٭