Results 1 to 2 of 2

Thread: الیگزینڈر دوم

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    20,188
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5861
    Rep Power
    214774

    candel الیگزینڈر دوم

    الیگزینڈر دوم
    23042 23831455 - الیگزینڈر دوم
    رضوان عطا
    الیگزینڈردوم دو مارچ 1855ء سے 13 مارچ 1881ء تک روس کا بادشاہ رہا۔ اس کی جانب سے اٹھایا گیا اہم ترین قدم ’’اصلاحاتِ آزادی 1861ئ‘‘ کو مانا جاتا ہے۔ عوامی مطالبات کے پیشِ نظر اور ذاتی خیالات کے زیرِاثر اس نے زمین دار اشرافیہ کی طاقت کم کرنے کی ٹھانی۔ ان اصلاحات کے ذریعے سلطنتِ روس میں زرعی غلامی (سرفڈم) کا خاتمہ کر دیا گیا۔ ایک حکم نامے سے دو کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد کو بریت ملی اور انہیں تمام شہری حقوق حاصل ہو گئے۔ اس کی دیگر اہم اصلاحات میں مقامی حکومتوں کا قیام، تمام شہریوں کے لیے لازمی فوجی سروس، اشرافیہ کی مراعات میں کمی اور یونیورسٹی کی تعلیم کا فروغ شامل ہیں۔ اس کے اقدامات نے روس میں سرمایہ داری کی راہ ہموار کی۔ 1867ء میں الاسکا کو ریاست ہائے متحدہ امریکا کو فروخت کرنے میں اس نے اہم ترین کردار ادا کیا۔ اسے خدشہ تھا کہ برطانیہ سے ایک اور جنگ کی صورت میں یہ دوردراز نو آبادی روس نہیں سنبھال پائے گا۔ اس کی ایک اور وجہ یہ خیال تھا کہ الاسکا میں قدرتی وسائل نایاب ہیں اور رہنا مشکل ہے۔ اگرچہ اس کے دور میں زیادہ تر عرصہ امن رہا لیکن 1877-78ء میں وہ مختصر وقت کے لیے سلطنتِ عثمانیہ سے الجھا۔ اپنی سلطنت کو توسیع دینے کی خاطر اس نے سائبیریا اور کاکیشیا میں مداخلت کی اور ترکستان کو فتح کیا۔ الیگزینڈر دوم نے جرمنی اور آسٹریا کے ساتھ ’’تین بادشاہوں کی لیگ‘‘ میں شمولیت بھی اختیار کی۔ یہ لیگ 1873ء سے 1887ء تک قائم رہی۔ جرمن چانسلر اوٹو وان بسمارک نے جب جرمن خارجہ پالیسی کو اپنے ہاتھوں میں لیا تو چاہا کہ یورپ میں جنگ نہ چھڑے۔ اسے یہ خطرہ تھا کہ آسٹریا، فرانس اور روس کا اتحاد جرمنی کو تباہ کر سکتا ہے۔ اس کا حل اس نے یہ نکالا کہ تین طاقتوں میں سے دو کو ساتھ ملا لیا جائے۔ الیگزینڈر دوم روس کے بادشاہ نکولاس اول کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ پروشیا کے بادشاہ فریڈرک ولیم سوم کی بیٹی الیگزینڈرا فیوڈورونا اس کی ماں تھی۔ اس نے ایک ایسے ماحول میں پر ورش پائی جس میں آزادیٔ رائے کی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی اور حکام پر کسی قسم کی تنقید کو برداشت نہیں کیا جاتا تھا۔ تاہم اس کی زندگی میں بعض ایسے مواقع آئے جنہوں نے اس کی سوچ کو ایک نیا رخ دیا اوراس نے روسی سلطنت کی انتہائی اہم اور مشکل اصلاحات کے لیے قدم اٹھایا۔ مستقبل کے بادشاہ کی حیثیت سے اس کی تعلیم و تربیت آزاد خیال رومانوی شاعر اور مترجم واسلے زوکووسکی کی زیرِ نگرانی ہوئی۔ اسی کے توسط سے وہ جدید یورپی ادب سے متعارف ہوا۔ 1853ء سے 1856ء تک جاری رہنے والی جنگِ کریمیا نے اس پر خاصا اثر کیا اور وہ عسکری معاملات سے گریزاں رہنے لگا۔ جوانی میں اس نے روس کے مختلف حصوں اور یورپی ممالک کا دورہ کیا۔ اس دوران اس کی دوستی شاعر الیگزینڈر ہرزن سے ہوئی۔ اس جلاوطن شاعر کو اس نے نہ صرف معاف کیا بلکہ بڑی حد تک اس کے خیالات سے متاثر ہو کر زرعی غلامی کا خاتمہ کیا۔ 1855ء میں اس کے باپ کا انتقال ہوا۔ جب بادشاہت کا تاج سر پر رکھا گیا تب داخلی اور خارجی میدانوں میں حالات عدم استحکام کا شکار تھے۔ اس پر کئی بار قاتلانہ حملے ہوئے۔ ایسا ہی ایک حملہ 13 مارچ 1881ء کو کامیاب ہوا اور ’’عوامی مرضی‘‘ نامی جماعت کے ایک رکن نے اسے بم کی مدد سے مار ڈالا۔ اصلاحات کی حامی یہ جماعت پُرتشدد اور انفرادی دہشت پسندی کے طریقہ کار کو اپناتی اور حکومتی اہلکاروں کو ہدف بنا کر نشانہ بناتی تھی۔ ٭…٭…٭

    2gvsho3 - الیگزینڈر دوم

  2. The Following User Says Thank You to intelligent086 For This Useful Post:


  3. #2
    Join Date
    Mar 2018
    Location
    Pakistan
    Posts
    2,428
    Mentioned
    6568 Post(s)
    Tagged
    3539 Thread(s)
    Thanked
    1626
    Rep Power
    5

    Default Re: الیگزینڈر دوم

    Wah
    Bohat umdah
    tfs

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •