سرِ صحرا حباب بیچے ہیں
لَبِ دریا سراب بیچے ہیں

اور تو کیا تھا بیچنے کے لیے
اپنی آنکھوں کے خواب بیچے ہیں

خود سوال ان لبوں سے کر کے میاں
خود ہی ان کے جواب بیچے ہیں

زُلف کوچوں میں شانہ کش نے ترے
کتنے ہی پیچ و تاپ بیچے ہیں

شہر میں سب خراب حالوں نے
حال اپنے خراب بیچے ہیں

جانِ مَن تیری بے نقابی نے
آج کتنے نقاب بیچے ہیں

میری فریاد نے سکوت کے ساتھ
اپنے لب کے عذاب بیچے ہیں