سفر میں ہیں مسلسل ہم کہیں آباد بھی ہوں گے
ہوئے ناشاد جو اتنے تو ہم دل شاد بھی ہوں گے

زمانے کو برا کہتے نہیں ہم ہی زمانہ ہیں
کہ ہم جو صید لگتے ہیں ہمیں صیاد بھی ہوں گے

بھلا بیٹھے ہیں وہ ہر بات اس گزرے زمانے کی
مگر قصے کچھ اس موسم کے ان کو یاد بھی ہوں گے

ہر اک شئے ضد سے قائم ہے جہانِ خوابِ ہستی میں
جہاں پر دشت ہے آثارِ ابرو باد بھی ہوں گے

منیرؔ افکار تیرے جو یہاں برباد پھرتے ہیں
کسی آتے سمے کے شہر کی بنیاد بھی ہوں گے