کسی خوشی کے سراغ جیسا
وہ رخ ہے ہستی کے باغ جیسا

بہت سے پردوں میں نور جیسے
حجابِ شب میں چراغ جیسا

خیال جاتے ہوئے دنوں کا
ہے گم حقیقت کے داغ جیسا

اثر ہے اس کی نظر کا مجھ پر
شرابِ گل کے ایاغ جیسا

منیرؔ تنگی میں خواب آیا
کھلی زمیں کے فراغ جیسا